بہرائچ، 19 اکتوبر (ایس او نیوز): پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) نے جمعہ کو بہرائچ تشدد کے مرکزی ملزم عبدالحمید کے مکان کو غیر قانونی تعمیرات کے الزام میں منہدم کرنے کا نوٹس جاری کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عبدالحمید سمیت دیگر چار ملزمان عدالتی حراست میں ہیں، جبکہ جمعرات کو ایک مبینہ پولیس انکاؤنٹر کے دوران محمد طالب اور محمد سرفراز زخمی ہوئے تھے۔
مختلف ذرائع کے مطابق، یہ تنازع اس وقت بھڑکا جب رام گوپال مشرا کو، جنہیں ایک وائرل ویڈیو میں ایک مکان کی چھت پر چڑھ کر سبز جھنڈا اتارتے اور اس کی جگہ زعفرانی جھنڈا لگاتے دیکھا گیا تھا، گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق، اس واقعے کے بعد دو کمیونٹی کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔
اس سے قبل، محمد سرفراز اور محمد طالب کو نیپال فرار ہونے کی کوشش کے دوران اتر پردیش پولیس نے فائرنگ کر کے ٹانگوں میں زخمی کر دیا تھا۔
اتر پردیش پولیس کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) پرشانت کمار نے بتایا کہ بہرائچ تشدد کے سلسلے میں پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں سے دو انکاؤنٹر میں زخمی ہوئے جبکہ باقی تین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ فی الحال علاقے میں امن قائم ہے اور صورتحال قابو میں ہے۔
حالیہ واقعات نے سیاسی میدان میں گرما گرم بحث کو جنم دیا ہے، جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اپوزیشن ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، اتوار کو بہرائچ کے مہاسی علاقے میں درگا مورتی وسرجن کے دوران جلوس کے مسلم علاقے میں داخل ہونے کے بعد یہ واقعہ پیش آیا۔ رام گوپال مشرا نامی نوجوان نے ایک مکان کی چھت پر چڑھ کر وہاں موجود ہرے جھنڈے کو اتار کر کیسری جھنڈا لگا دیا، جس کے بعد کسی نے اس پر فائرنگ کر کے اسے قتل کر دیا۔ اس قتل کے بعد دونوں کمیونٹی کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔
یاد رہے کہ حال ہی میں سپریم کورٹ نے بلڈوزر کارروائیوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے تمام ریاستوں کو ہدایت کی تھی کہ آئندہ سماعت تک بغیر اجازت کسی بھی بلڈوزر کارروائی کی اجازت نہ دی جائے۔ تاہم اب جب کہ اتر پردیش میں بہرائچ کے ملزم کے مکان کو غیر قانونی تعمیرات کا الزام لگا کر منہدم کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا ریاستی حکومت سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کرے گی یا نہیں۔